Showing posts with label mazameen. Show all posts
Showing posts with label mazameen. Show all posts

Monday, 17 March 2014

Wednesday, 18 September 2013

ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا صفت باری تعالی ہے غیر کو شریک کرنے والا خازج از اسلام ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا صفت باری تعالی ہے
غیر کو شریک کرنے والا خازج از اسلام ہے

الحمد للہ رب العالیمن والصلوۃ اواسلام علی خاتم الانبیاء و اشرف المرسلین

قارئین کرام الو ہیت کے لواز وخواص اور عبادات کے اصول و قواعد تین ہیں۔تین بنیادوں یا ستونوں پر عبادت کی پوری عمارت قائم ہے۔چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے کلام پاک میں اپنے استحقاق عبادت کو بیان فرمایا ہے تو انہی صفات کا اثبات فرماکر اور غیر اللہ کی عبادت ،دعا و پکار سے منع فرمایاہے تو ان سے انہی صفات کی نفی فرما کر جن میں ان صفات ثلاثہ کا فقدان ہے۔یہ بات یاد رکھیں کہ جب کوئی مشرک کسی کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتا ہے تو اس اعتقاد و شعور اور ایمان و یقین کے ساتھ کہ:
(
۱) وہ معبود ہر جگہ حاضر وناظر ہے ،جہاں بھی اسے پکاروں وہ میری پکار کو سنتاہے ،میری تکلیف کو دیکھتا ہے اور موقعہ پر میری مشکل کو حل کرتا ہے اور حاجت روائی کردیتا ہے ۔
(
۲) وہ معبود عالم الغیب ہے میرے دکھ و درد کو جانتا ہے اسے میرے مصیبت کا خواہ کہیں بھی ہو خوب علم ہے۔دنیا کی کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
(
۳) وہ معبود قدرت و اختیار رکھتا ہے ۔مالک و مختار متصرف فی الامور ہے ۔نفع و نقصان کا مالک ہے ،میری تکلیف میرا دکھ درد دور کرنے والا ہے۔
اگر آپ تھوڑی تحقیق کرکے معلوم کریں تو آپ جانیں گے کہ ہر مشرک بنیادی طور پر یہی تین احساسات رکھتا ہے ۔چنانچہ مشرکین سابقین کے متعلق حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:وقالو ا ھولآء یسمعون و یبصرون و یشفعون لعبادھم و یدوبرون امورھم و ینصرونھم (حجۃ اللہ البالغہ جلد اول ص
۱۰۸)یعنی مشرکین کہتے ہیں کہ یہ معبود سنتے ہیں ،دیکھتے ہیں اپنے پجاریوں کی سفارش کرتے ہیں ان کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔
قارئین ان تین بنیادی اصولوں میں سے دوسرے اصول یعنی علم الغیب ہر ہم تفصیلی گفتگو اسی فورم پر کرچکے ہیں اور دونوں طرف کے دلائل بھی آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں ۔۔اس وقت اس مضمون میں عقیدہ حا ضر و ناظر پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔اور جہاں تک مختار کل کو تعلق ہے تو انشاء اللہ اگر موقع ملے تو اس پر پھر کسی وقت گفتگو کریں گے۔البتہ اس موضوع پر حضرت شاہ صاحب شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’تقویۃ الایمان ‘‘ سے بہتر کوئی کتاب میری نظر سے نہیں گزری۔میری خواہش ہوگی کہ ہر مسلمان اس کتاب کے درس کا اہتمام باقاعدہ گھروں میں کیا جائے ۔
اللہ تعالی ہر چیز پر حاضر موجود ہیں
(
۱) ان اللہ علی کل شیء شہید (پارہ نساء ،ع ۵ ،سورہ احزاب ع۷ ۔۲ بار)بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر حاضر ہے۔
(
۲) و انت علی کل شیء شہید (پارہ ۷ آکر سورہ مائدہ )اور تو (اے اللہ ) ہر چیز پر حاضر ہے۔
(
۳) و کان اللہ علی کل شیء رقیبا (پارہ ۲۲ سورہ احزاب ع۶)اور اللہ تعالی ہر چیز پر نگہبان ہے۔
(
۴) وما تکون فی شان وماتتلوا منہ من قران ولا تعلمون من عمل الا کنا علیکم شھودا اذ تضیفون فیہ (پارہ ۱۱سورہ یونس ع۷)اور آپ (خواہ)کسی حال میں ہوں اور آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور تم جو بھی کام کرتے ہو ہم تمہارے پاس حاضر ہوتے ہیں جب تم اس کام میں مصروف ہوتے ہو۔
یعنی جب نبی کریم ﷺ قرآن پڑھتے پڑھاتے ہوں یا اسی خصوصی و امتیازی شان کے علاوہ کسی حال میں ہوں یا کوئی شخص کسی کام کو شروع کرے اور اس میں مصروف و مشغول ہوں۔اللہ تعالی تعالی وہاں موجود ہوتے ہیں۔
(
۵) واللہ شہید علی ما تعملون (آل عمران ع۱۰ )اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس پر حاضر ہیں۔
(
۶) اللہ شہید علی ما یفعلون (یونس ۱۱ ع۵)
(
۷) وھو معکم این ما کنتم واللہ بما تعملون بصیر (پارہ ۲۷ حدید ع اول)تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔
(
۸) ما یکون من نجوی ثلثۃ لاھو رابعھم ولا خمسۃ الا ھو سادسھم ولا ادنی من ذالک ولا اکثر الا ھو معھم این ما کانوا ثم ینءھم بما عملوا یوم القیامۃ ان اللہ بکل شیء علیم (پارہ ۲۸ سورہ مجادلہ ع ۲)تین شخصوں کی کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جہاں وہ (یعنی اللہ ) ان میں چوتھا نہیں ہوتا اور نہ پانچ کی جہاں وہ ان میں چھٹا نہیں ہوتا اور نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ مگر وہ (بہرحالت)ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے خوہ وہ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں پھر ان کو قیامت کے دن ان کا کیا ان کو بتلائے گا بے شک اللہ تعالی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
(
۹) یستخفون م نالناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذ یبیتون مالا یرضی من القول (سورہ نساء ع۱۶)لوگوں سے چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہیں جبکہ وہ رات کو خلاف مرضی الٰہی بات تا کامشورہ کرتے ہیں ۔
اللہ ناظر بصیر ہے
(
۱۰) واللہ بصیر بالعباد (آل عمران ع۲و مومن ع۵)اور اللہ تعالی بندوں کو خوب دیکھنے والے ہیں
(
۱۱) انہ کان بالعباد خبیرا بصیرا (بنی اسرائیل ع۳فرقان ع ۲،خاتمہ فاطر،فتح ع۳)بے شک وہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔
(
۱۲) واللہ بصیر بما یعملون (بقرہ ،آل عمران ،انفال ۔۔بقرہ ع۳۶ آل عمران انفال آخر ع حدید،ممتحنہ بادنی تغیر )او ر اللہ دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
(
۱۳) انہ بکل شیء بصیر (سورہ ملک آکری ع)بے شک اللہ تعالی ہر چیز کو دیکھنے والا ہے ۔
(
۱۴) الذی یراک حین تقوم و تقلب فی الساجدین (آؒ خر شعراء )
(
۱۵) قل عسی ربکم ان یھلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض کیف تعملو ن۹ ع۵ آیت ۳)کہا نزدیک ہے کہ تمہارا رب ہلاک کردے تمہارے دشمن کو اور تمھیں زمین کا خلیفہ بنادے پھر وہ نظر کرے کہ تم کیسا کام کرتے ہو۔
قارئین کرام انتہائی اختصار کے ساتھ اس وقت آپ کے سامنے قرآن کریم سے کل پندرہ آیات پیش کی گئی ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا یہ صرف اللہ تعالی کی صفت ہے ۔ان میں سے اکثر آیات ایک بار سے زیادہ بار قرآن کریم میں موجود ہیں ۔جبکہ پورے قرآن میں اس مضمون کی قریبا سو آیا موجود ہیں جو ہر ایک کو تھوڑے سے غور فکر کے بعد مل جائیں گی ۔اس وقت ان تمام آیات کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ بات کو سمجھانا اور مسئلہ کو واضح کرنا مقصود ہے ۔اب قرآنی براہین کے بعد اسلام کے دوسرے اصول یعنی احادیث نبوی ﷺ کو بھی ملاحظہ فرمالیں کہ وہاں اس مسئلہ کو کیسے واضح کیا گیا ہے۔
احادیث مبارکہ سے اللہ تعالی کے حاضر و ناظر ہونے کا ثبوت
حضرت ابو موسی اشعریؓ سیروایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے لوگ زور کی آواز سے تکبیر کہنے لگے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
(
۱) انکم تدعون سمیعا بصیرا وھو معکم والذی تدعونہ اقرب الی احدکم من عنق راحلتہ (صحیح بخاری ،مسلم ،مشکوۃ شریف باب ثواب التسبیح ) تم تو اس خدا کو پکارتے ہو جو سننے والا دیکھنے والا ہے اور جو تمہارے ساتھ ہے اورتم سے تمہارے اونٹ کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔
سبحان اللہ درجنوں آیات قراآنی میں جن صفات ربانی کو واضح فرمایا گیا ایک ہی ارشادنبوی ﷺ میں ان تمام صفات کو میرے آقا ﷺ نے اجمالی طور پر بیان فرمادیا ۔حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زورزور سے اللہ کا ذکر کرنا خاص کر آج کل جو بریلوی مساجد یا دیگر مساجد میں جڑ پکڑ چکا ہے یہ خلاف سنت اور بدعت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن معاویہ عامریؓ روایتکرتے ہیں کہ میں نے عرض کیاکہ
(
۲) فما تزکیۃ المرء نفسہ یا رسول اللہ قال ان یعلم ان اللہ معہ حیثما (رواہ البزاز فی مسندہ بحوالہ ترجمان السنہ جلد ددوم حدیث ۵۰۷)یا رسول اللہ کسی شخص کا اپنے نفس کو پاک کرنے کاکیاطریقہ ہے ؟فرمایا اسبات کا یقین ہوکہ انسان جس جگہ بھی ہو اللہ اسکے ساتھ ہے۔
(
۳) اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل (مشکوۃ المصابیح باب الدعوات فی الاوقات)اے اللہ تو سفر میں میرا ساتھی ہے اور اہل عیال کامحافظ۔
(
۴) ان اللہ نظر الی اھل الارض فمقتھم عربھم وعجمھم الا بقایا من اھل الکتاب (صحیح مسلم ج ۲ص ۳۸۵)اللہ نے زمین والوں پر نظر کی اور دیکھا تو تمام عرب و عجم والوں پر ناراض ہو ا مگر اہل کتاب میں سے کچھ آدمی اللہ کی ناراضگی سے بچ گئے۔
(
۵) ان اللہ مستخلفکم فیھا فینظر کیف تعملون (مسند طیالسی ص۲۸۶)آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی تمھیں زمین کا خلیفہ بنائے گاپھر نظر کریگا تم کیا کام کرتے ہو۔
(
۶) ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولکن ینظر الی اعمالکم (مسلم ج۲ ص۳۱۷ مشکوۃ ۴۵۴)کہ اللہ تعالی تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا (بایں طور کہ کون خوبصورت ہے کون بدصورت)لیکن تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔
(
۷) ان الدینا حلوۃ خضرۃ و ان اللہ مستخلفکم فیھا فناظر کیف تعملون (ترمذی ص۴۶،ابن ماجہ ص ۲۹۷،مستدرک ج۴ص۵۰۵،مشکوۃ شریف ۴۳۷)دنیابڑی لذیذ اور سر سبز دلکش ہے اللہ تعالی تمھیں زمین کا خلیفہ بنانے والا ہے پھر دیکھنے والا ہے کہ تم کیا کرتے ہو۔
کاظمی صاحب کی بھڑکیں بھی سن لیں
قارئین کرام اس حدیث میں صاف طورپر اللہ کی ذات پر ’’ناظر‘‘ کا اطلاق کیا گیا ہے مگر دوسری طرف بریلویوں کے جعلی غزالی دوراں احمد سعید کاظمی صاحب کی تحقیق بھی ملاحظہ فرمالیں
اللہ تعالی کے اسماء میں سے حاضر و ناظرکوئی نام نہیں اور قرآ ن و حدیث میں کسی بھی جگہ حاضر و ناظر کا لفظ ذات باری تعالی کیلئے وارد نہیں ہوا نہ سلف و صالحین نے اللہ تعالی کیلئے یہ لفظ بولا ۔کوئی شخص قیامت تک ثابت نہیں کرسکتا کہ صحابہ کرام یاتابعین یا آئمہ مجتہدین نے کبھی اللہ کیلئے حاضر و ناظر کالفظ استعمال کیاہو۔(تسکین الخواطر ص
۳)
کاظمی صاحب تواب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن بریلوی حضرات اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیایہ حدیث نہیں اور کیااس میں ناظر کا لفظ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذات باری تعالی پر اطلاق نہیں کیا ؟اور کیااس حدیث کے پہلے راوی ابو سعید الخدریؓ صحابی رسول ﷺ نہیں ؟۔۔اور کیا ابو نضرہ ؒ تابعی نہیں جویہ روایت نقل کررہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ٹوٹ جائے نہ تیغ اے قاتل سخت جان ہوں ذرا سمجھ کر کھینچ
بریلوی حضرات سے اس موضوع پر بات کرنے کے اصول
اس موضوع پر بات کرنے کیلئے وہی اصول اپنائیں جو فقیر آپ کے سامنے علم غیب پر بات کرنے کے اصول میں بیان کرچکا ہے ۔اس لئے کہ یہ بات پہلے واضح کی جاچکی ہے کہ اپنے مطلب اور مدلول کے اعتبار سے یہ دونوں ایک ہی موضوع ہیں صرف لفظی تغایر ہے۔
مناظرے کا ایک اہم رکن مدعی کا تعین ہے۔جیسا کہ میں پہلے واضح کرچکا ہوں کہ انٹرنیٹ پر اکثر ساتھی جوش میں آکر اختلافی موضوعات پر خود ہی مدعی بن جاتے ہیں اور بریلوی پھر بار بار دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہ بات یاد رکھیں کہ تمام اختلافی امور میں بریلوی حضرات ہی مدعی ہیں۔مدعی کی تعریف میں علم الغیب والے مضمون میں واضح کرچکا ہوں وہ تمام امور میں بریلوی حضرات پر ہی صادق آتی ہے۔اس موضوع پر بریلوی مدعی ہیں چند دلائل ملاحظہ ہو۔
(
۱) مدعی کی ایک تعریف یہ ہے کہ اذا ترک ترک جب وہ اپنا دعوی چھوڑ دے تواس سے بحث و مباحثہ چھوڑ دیا جاتا ہے ۔یہ تعریف بریلویوں پر صادق آتی ہے اگر بریلوی مخلوق کیلئے حاضر و ناظر کا دعوی چھوڑ دے تو ہم ان سے بحث ترک کردیں گے۔
(
۲) اصول مناظرہ میں یہ بات طے ہے کہ بدیہات میں مناظرہ نہیں ہوتا اور ایک شخص کا ایک وقت میں ایک سے زائد مکان میں نہ ہونا یہ بدیہات میں سے ہے اس اصول کے تحت تو بریلوی حضرات کے دعوی اس قدر خلاف ہے کہ ان سے اصول کے تحت مناظرہ بھی نہیں ہوسکتا مگر وہ کرتے ہیں تو ہمیں بھی جواب دینا پڑتا ہے لہٰذا مدعی بریلوی ہونگے۔
(
۳) مدعی کی ایک تعریف یہ میں نے بتائی تھی کہ جو ایک زائد امر کو ثابت کرے بریلوی حضرات اللہ کے سوا مخلوق کو(جی ہاں وہ اولیاء کو بھی حاضر و ناظر بلکہ عالم الغیب تک مانتے ہیں دیکھئے بہار شریعت حصہ اول) حاضر و ناظر مانتے ہیں جو کہ امر زائد ہے اس اصول کے تحت وہ مدعی ہیں۔اسکے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں تفصیل کیلئے حمیدیہ یارشیدیہ کا مطالعہ کریں جو اصول مناظرہ پر لکھی گئی معروف کتابیں ہیں۔
مدعی متعین ہوجانے کے بعد وہ اپنا دعوی لکھے گا اور اپنے موقف پر دلائل دے گا آپ کا کام ان کے دلائل پر نقض تفصیلی دائر کرنا ہوگا اور اپنے موقف پر بھی دلائل دے سکتے ہیں۔مگر یہ آپ پر ضروری نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرے گا۔انٹرنیٹ پر (پال ٹالک) پر فقیر نے یہ دیکھا ہے کہ اکثر فریقین طوطے کی طرح اپنے اپنے موقف پر دلائل دیتے ہیں اور دوسری کی دلیل پر بالکل جرح نہیں کرتے یہ بالکل غلط طریقہ ہے کہ اس سے عوام یہ سمجھتی ہے کہ دونوں طرف سے قرآن و حدیث پیش کیا جارہا ہے جس پر چاہے عمل کرو ۔نہیں پہلے فریق مخالف کے دلائل پر تفصیل کے ساتھ نقص دائر کریں اس کے بعد اپنی دلیل دیں۔
بریلوی اللہ تعالی کو حاضر و ناظر نہیں مانتے جس کا ثبوت آگے آئے گا لیکن ہم صرف اللہ تعالی کو ہی حاضر و ناظر مانتے ہیں لہٰذا اس پر دلیل بھی ہم دیں گے۔
حاضر و ناظر کا مسئلہ عقائد کا مسئلہ ہے لہٰذا دلیل صرف قطعی ہوگی یعنی قرآن کی آیت جو قطعی الدلالت ہو یعنی اس کے اندر ایک سے زائد احتمال نہ ہو ورنہ قطعی الثبوت تو ہوگی قطعی الدلالت نہ ہوگی یاد رہے کہ قرآن تمام کاتمام قطعی الثبوت ہے اس کا منکر کافر ہے مگر قطعی الدلات نہیں۔اور حدیث اگر ہو تو متواتر البتہ اگر خبر احادکو تلقی قبول حاصل ہوگیا ہو تو اس سے بھی مستقل استدلال کیا جاسکتا ہے۔
کشف و کرامت حجت نہیں لہٰذا وہ پیش نہیں کیا جائے گا۔اور یہ اصول کے تحت مبرہن ہے کہ کشف و کرامت تو خود صاحب کشف کیلئے حجت نہیں تو ہمارے لئے کیسے ہو۔صوفی کا کوئی قول پیش نہیں کیا جائے گا۔اکابرین امت کے اقوال اپنے دلائل کی تائید کیلئے پیش کئے جاسکتے ہیں ۔مگر ان سے مستقل احتجاج ہر گز قابل التفات نہیں۔خواب بھی معتبر نہیں۔مولوی سعید کاظمی نے تسکین الخواطر میں باقاعدہ دلیل دی ہے کہ حضور ﷺ ہر کسی کے خواب میں آتے ہیں لہٰذا وہ حاضر و ناظر ہیں۔۔اس پر تفصیلی دلائل میں نے حضرت تھانوی ؒ کے مرید پر کلمہ پڑھنے کے الزام کا جواب میں دیا۔لیکن اگر وہ نہ مانے تو اس سے کہو کہ اگر کل کو کوئی مسلمان خواب میں دیکھ لے کہ کسی بریلوی مولوی کی بیٹی سے نکاح کررہا ہے تو کیا وہ اس کو اپنی بیٹی دیں گے۔۔؟؟؟؟اس لئے کہ خواب تو ان کے نزدیک حجت ہے ۔۔ان سے پوچھو کہ اگر خواب سے کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو بریلوی اپنے مولویوں پر حد جاری کیوں نہیں کرتے ۔۔جب ان کو خواب میں احتلام ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟انشاء اللہ ان کا منہ بالکل بند ہوجائے گا۔۔شرافت سے ان کا منہ آپ کبھی بند نہیں کرسکتے۔
دلائل مسلم بین الفریقین کتب سے دئے جائیں اگر کوئی کتاب یا کسی ہستی کو فریق مخالف نہیں مانتا تو آپ اس سے حوالہ نہیں دیں گے ہاں اگر وہ ضد کی بناء پر کسی معتبر ہستی کا انکار کرتا ہے جیسے آج کل بریلوی حضرات مفسر ابن کثیر یا حضرت شاہ والی اللہ رحمھما اللہ پر فتوے لگاتے ہیں تو یہ ان کی ہٹ دھرمی ہے اس کو ہرگز نہیں مانا جائے گا۔بلکہ اس صورت میں آپ اس کی تحریر بھی لیں ۔
عقائد قیاس میں معتبر نہیں القیاس لا یجری فی العقائد ۔لہٰذا قیاس نہیں چلے گا مطلب بریلوی کہے گا کہ شیطان ہر جگہ حاضر و ناظر ہے العیاذ باللہ (یہ بالکل سفید جھوٹ ہے آگے ثابت کیا جائے گا) تو حضور ﷺ بھی ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں کہ وہ شیطان سے افضل ہیں نعوذ باللہ (عبد السمیع انوار ساطعہ مفتی احمد یار جاء الحق)ایسا شیطانی قیاس نہیں چلے گا۔آپ کہو کہ اگر میں کہوں کہ مکھی اڑتی ہے مگر مولوی رضاخان نہیں لہٰذا مولوی رضاخان مکھی سے اسی صورت میں افضل ہونگے جب وہ اڑیں گے تو کیا وہ اس کو مانیں گے۔۔۔؟؟؟
آیت کے مقابلے میں آیت حدیث کے مقابلے میں حدیث اگر ایسا نہیں تو پہلے اس سے تحریر لیں کہ ہمارے پاس اس کا جواب آیت و حدیث سے نہیں ۔۔اسکے بعد اس کا جواب دیں اگر دینا چاہیں۔
یہ شرط لازمی رکھیں کہ دوران مناظرہ فریقین ایک دوسرے جوبات لکھنے کا مطالبہ کریں تو دوسرے پر تحریر دینی لازمی ہوگی۔
اگر کوئی کتاب کسی فریق کے پاس نہیں اور دوسرا فریق ایسی کتاب سے دلائل دے رہا ہے تو مطالبے پر اصل کتاب دوسرے فریق کو دکھانا لازم ہوگا۔
وقت کا تعین کہ مناظرین کی تقریریں کتنے کتنے منٹ پر ہوگی اور مدت مناظرہ مثلا ایک دن دو دن تین دن۔اس سے زیادہ مناظرے کا وقت مقرر نہ کریں۔
جو موضوع طے ہوا ہے اس کو چھوڑ کر یا موضوع کے دوران دوسرے موضوع کو چھیڑنے والے فریق کی یہ حرکت اس کی شکست ہوگی۔انشاء اللہ بریلوی مناظر نے اس موضوع پر جو مواد رٹا ہوگا وہ تیسری چوتھی تقریر پر ہی ختم ہوجائے گا اور پھر وہ اپنے اصل موضوع یعنی عبارت اکابر پر آجائے گامثلا وہ کہے گا کہ تم کیوں حضور ﷺ کو حاضر و ناظر مانو گے۔تم تو ہو ہی گستاخ تمہارے فلاں مولوی نے یہ کہا وہ کہا اس کا ہر گز جواب نہ دے بلکہ ان سے تحریر لیں کہ اگر وہ اس موضوع پر بات نہیں کرسکتا تولکھ کر دے دے میں اس اعتراض کا بھی منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔
بریلوی چونکہ حضور ﷺ کو ہر جگہ حاضر و ناظر مانتے ہیں اس لئے وہ نہ تو اسپیکر استعمال کریں گے نہ نعرے لگائیں گے نہ چیخ چیخ کر بات کریں گے کہ قرآن کہتا ہے کہ لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ۔جبکہ ہم اسپیکر بھی استعمال کریں گے۔اور نعرے بھی لگائیں گے۔
چونکہ بریلوی حضرات ہر جگہ حضور ﷺ کو حاضر و ناظر مانتے ہیں اس لئے ان کی طرف سے صدارت خود حضور ﷺ فرمائیں گے اور وہ کسی کو بھی اپنا صدر منتخب نہیں کرسکتے ۔ان سے کہیں کہ حضور ﷺ کیلئے کوئی جگہ خالی چھوڑ دیں تاکہ وہوہاں تشریف رکھ سکیں اگر انھوں نے اس پر عمل کیا توکہیں کہ آپ نے یہ جگہ حضور ﷺ کیلئے خالی کی کہ وہ یہاں بیٹھیں لہٰذا معلوم ہوا کہ دوسری جگہ پر نہیں تو ہر جگہ حاضر کا عقیدہ کہاں گیا۔۔مولانا صاحب ابھی تو مناظرہ شروع بھی نہیں ہوا اتنی جلدی دعوے کے خلاف۔۔۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی شرائط ہیں جو ایک ماہر مناظر خود ہی وقت پر سوچ کر منوالیتا ہے۔یاد رکھیں کہ کامیاب مناظر وہی ہے جو اپنی شرائط منوائے۔دوران مناظرہ مشکل الفاظ یا دقیق علمی نکات بیان کرکے اپنا علم مت جھاڑیں مسئلہ عوام کو سمجھانا ہے ۔۔۔یہ علمی جوش کسی اور وقت کیلئے بچا کر رکھیں عام فہم اور آسان الفاظ میں مسئلہ سمجھائیں۔
بریلوی حضرات کا دعوی
شرائط کے بعد آپ کو بریلوی حضرات سے دعوی لکھوانا ہوگا ’’ کہ ہم اہلسنت (بقول ان کے)بریلوی حنفی فرقہ آپ ﷺ کو روح مع الجسد یا صرف آپ ﷺ کی روح کو ہر جگہ ،ہر آن ،فلاں تاریخ کے بعد یا ہمیشہ حاضر و ناظر مانتاہے۔
اگر روح مع الجسد لکھوایا جائے تو یہ بھی لکھوانا ہوگا کہ جسم مثالی کے ساتھ یا جسم اصلی کے ساتھ حاضر و ناظر ہیں۔اب آپ ان کے دعوے پر جرح کرنے کیلئے مندرجہ ذیل امور کو اچھی طرح ذہن نشین فرمالیں۔انشاء اللہ دعوے کے تعین میں ہی بریلوی مناظر کی طبعیت صاف ہوجائے گی۔
دعوے پر جرح (تنقیح دعوی)
بریلوی علم غیب کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کو تدریجا ملا جب وحی مکمل ہوئی تو تمام ماکان و ما یکون کے عالم ہوئے ۔تو کیا حاضر و ناظر کے بارے میں بھی آپ کایہی عقیدہ ہے وضاحت فرمائیں۔۔قبل النبوۃ یا بعد النبوت پیدائش سے پہلے یا بعد۔۔اگر کسی خاص وقت کے بعد حاضر و ناظر ہوئے ہیں تو اس کی وضاحت فرمادیں اس کے بعد کوئی آیت پڑھ دیں جس سے صاف معلوم ہو کہ اس تاریخ کے بعد حاضر و ناظر ہونے پر یہ دلیل شاہد ہے۔۔آپ مناظرہ جیت گئے۔
زندگی میں آپ ﷺ جہاں حاضر و ناظر ہوتے تھے تو آپ ﷺ منظور بھی تھے اور زندگی کے بعد آپ ﷺ حاضر و ناظر ہیں تو منظور کیوں نہیں۔۔؟؟اسکی کوئی خاص وجہ۔۔؟؟اس پر کوئی خاص نص ہے۔۔؟؟آخر یہ خلاف ظاہر کیوں۔
آپ کسی قطعی دلیل سے ثابت کردیں کہ حضور ﷺ اپنی زندگی میں دس بجے یا کسی وقت فلاں فلاں یا ایک سے زائد جگہ حاضر و ناظر تھے ۔۔آپ مناظرہ جیت گئے ہم ہار گئے۔
حدیث میں ہے کہ انبیاء زندہ ہیں اور اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اگر روح مع الجسد حاضر و ناظر ہے تو جسدمبارک قبر میں نہ رہا پھر اس حدیث کاکیا مطلب۔اور اگر صرف روح کے قائل ہیں تو یہ حضورناقص ہے حضور کامل نہ رہا ۔انسان تو نام ہے روح مع الجسد کا روح کی حیثیت راکب کی ہے اور جسم مرکوب کی ۔پھر صرف روح کیوں حاضر و ناظر ہے ۔۔اس کی کیا وجہ ہے؟۔
مولوی احمد سعید ملتانی اور مفتی یار گجراتی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک جگہ ہیں لیکن آپ ﷺ کے سامنے پوری کائنات کا ذرہ ذر ہ ہے ۔تو اس پر سوال یہ ہے کہ اس طرح تو آپ حاضر فی مکان واحد ہوئے اور ناظر کل شیء ہوئے ۔یہ بات آپ کے دعوے کے خلاف ہے ۔دعوی آپ نے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے کا لکھا ہے۔
عقید ہ حاضرو ناظر خاتم النبیین کے منافی ہے:آپ ﷺ ہر جگہ موجود ہیں ۔ہماری درسگاہ میں بھی ،مسجد میں بھی ،دکان میں بھی ۔یہ سب مستقل ہیں یا سب کو ملا کر ایک محمد ﷺ بنایا جائے گا۔اگر ہر ایک مستقل ہے تو پھر آپ خاتم الانبیاء کے تعدد کے قائل ہوئے۔محمد ﷺ کا مسمی ایک تھا آپ نے کئی بنائے۔اگر سارے کو سارے ایک بنایا جائے تو مکمل حاضر و ناظر کے قائل نہیں۔
تعریف حدیث سے مسئلہ حاضر و ناظر کا رد:تقریر نبوی کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے کوئی فعل ہوا ہو اور آپ ﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہ کی ،نہ اس کی تصویب کی۔یہ بھی حدیث کی ایک قسم ہے۔اب جبکہ آپ ﷺ ہر جگہ موجود ہیں اور آپ کے جلسوں میں بھی موجود ہوتے ہیں ،اور آپ کا عالم علماء دیوبند کو گالیاں دیتا ہے۔اس کو تقریر نبوی حاصل ہے۔نبی ﷺ اس پر نکیر نہیں فرمارہے ہیں لہٰذا اس کو بھی حدیث میں شمار کریں ۔یہ بھی حدیث ہے۔ اس صورت میں ذخیرہ احادیث کو بڑھاتے جائیں۔
پردہ اور آمد جبرائیل علیہ السلام سے اس عقیدے کا رد:آپ ﷺ جب حیات تھے تو جبرائیل علیہ السلام آتے تھے کیا اب بھی آتے ہیں؟ اگر آتے ہیں تو کیا نص ہے؟ اگر نہیں تو کیوں۔۔؟ اس کیلئے کیا نص ہے۔حیات میں تو جب وہ نہیں آتے تو آپ پریشان ہوجاتے۔
آپ ﷺ جب حیات تھے تو عورتوں کا پردہ تھا آپ سے ۔کیا حیات کے بعد وہ حکم نہیں رہا ۔۔؟۔اور کیا اب آپ عورتوں سے پردہ نہیں فرماتے۔۔؟؟اس لئے کہ آپ ﷺ تو ہر جگہ ناظر ہیں۔
وللاخرۃ خیر لک من الاولی سے اس عقیدے کی تردید:رسول پاک ﷺ جب اس دنیا سے چلے گئے تواللہ میزبان اور رسول اللہ ﷺ مہمان ہیں ،تو اللہ کی میزبانی کو چھوڑ کراور روضۃ من ریاض الجنۃ کو چھوڑ کر جلسوں میں آجائیں۔۔؟؟یہ کیابات ہے روح مبارک جسم کو چھوڑ کر جلسوں میں آجائے حالانکہ جب ملک الموت آپ ﷺ کی روح مبارک کو نکال رہے تھے تو آپ ﷺ کو تکلیف ہورہی ہے۔اس بارے میں حضرات نے فرمایا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ روح پوچھ رہی تھی کہ مجھے کہاں لے کے جاؤ گے ؟کہا گیا جنت میں ،روح نے کہا کہ میرے لئے یہی جسم ہی جنت ہے اور روضہ بھی جنت ہے ۔مجھے یہیں رہنے دو ۔جب روح جنت میں جانے کیلئے تیار نہیں اور ملک الموت سے لڑائی کررہی ہے ۔تو کیوں اس جسم مبارک کو چھوڑ کر اس دنیا میں تشریف لے آئیں۔
آخری بات:سب باتیں چھوڑیں آپ اور ہم میں فیصلہ بہت آسان ہے کسی لمبے چوڑے مناظرے کی ضرورت نہیں ۔۔کیا آپ بتا سکتے ہیں جب آپ ﷺ زندہ تھے تو ٹھیک دس بجے ،مدینہ ،مکہ شام اور فلاں فلاں مقام پر بھی تھے۔زمین پر بھی تھے آسمان پر بھی تھے ۔۔اس کا ثبوت آپ دے دیں شکست ہم لکھ کر دیتے ہیں۔اور جب حیات میں یہ ثابت نہیں اور آپ قیامت تک ثابت نہیں کرسکتے تو وفات کے بعد بھی نہیں ہیں ۔اگر حاضر ہیں تو ازواج مبارکہ کی باری کیوں مقرر کی۔۔؟؟۔
احناف کی طرف سے جواب دعوی
ہم لوگ اہل سنت والجماعت دیوبندی حنفی آنحضرت ﷺ کو وصال مبارک کے بعد مزار مبارک میں بعثت کبری سے پہلے زندہ مانتے ہیں ۔لیکن یہ زندگی اس قسم کی نہیں کہ آپ کائنات میں تصرف کریں اور ہر جگہ ہر آن موجود ہوں۔یعنی ہر جگہ حاضر و ناظر ہوں۔اور حضور ﷺ کے بارے میں یا انبیاء کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا روافض اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔
اگر آپ نے دعوے میں یہ لکھوایا تو پھر ثابت بھی کرنا ہوگا کہ اس قسم کا عقیدہ روافض اور عیسائیوں کا ہے۔اور انشاء اللہ یہ آگے ہم ثابت کردیں گے۔
احناف کے دلائل
ہوسکتا ہے کہ کوئی بریلوی مناظر یہ اعتراض کرے کہ آپ نافی ہیں یعنی سائل اور ہم مدعی اور نافی دلائل نہیں دے سکتا بلکہ دلیل مدعی کے ذمہ ہوتی ہے۔اس سلسلے میں عرض ہے کہ اگر چہ یہ درست ہے کہ دلیل مدعی کے ذمہ ہے۔اور نافی دلیل نہیں دے گامگر نافی کی دلیل اگر مدلول نص ہو تو (یعنی اس کی نفی پر کوئی نص ہو) تو وہ دلیل دے سکتا ہے۔(دیکھئے اصول مناظر ہ کی کتاب ۔مناظرہ رشیدیہ)۔

Thursday, 29 August 2013

شامی عوام پر ظلم کی رضاخانی حمایت

شامی عوام پر ظلم کی رضاخانی حمایت
مولاناساجد خان نقشبندی صاحب حفظہ اللہ
قارئین کرام!اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْداً عَلَیْہٖ حَقّاً فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَ مَنْ اَوْفیٰ بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہٖ وَ ذَالِکَ ھُوَ اْلفَوْزُ الْعَظِیْم۔
ترجمہ:واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کا مال اس بات کے بدلے خرید لئے ہیں کہ جنت انہی کی ہے ،وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے توراۃ اور انجیل میں بھی لی ہے اور قرآن میں بھی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہٰذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
(آسان ترجمہ قرآن ۔از شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی)
حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جگہ جگہ اللہ نے جہاد کے فضائل بیان کئے ہیں جن کی تفاسیر پر علمائے اہل السنۃ والجماعۃ نے مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔پیارے نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ :الجھاد ماض الی یوم القیامۃ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔مسلمانوں نے قرآن اور صاحب قرآن کی ان روشن تعلیمات و فرمودات پر ہمیشہ عمل کرتے ہوئے جہاد کے میدانوں کو آباد کیا۔اور دشمنوں کو ناکوں چنے چبواکر اسلام کیلئے اپنی محبت ،خلوص ،شجاعت و بہادری کے انمول نقوش تاریخ کے اوراق پر رقم کردئے ۔مگر افسوس کہ وقت کے میر جعفروں اور میر صادقوں نے ان سرفروشوں کو آستین کا سانپ بن کر ڈسنے کی کوشش کی ۔ اپنے اکابر کی راہ پر چلتے ہوئے جب امیر المومنین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے جانثار رفقاء نے انگریز کے پنجہ استبداد سے ہندوستان کی عظیم اسلامی سلطنت کو آزادکرانے کیلئے میدان جہاد میں نعرہ تکبیر بلند کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک تنخواہ دار ملازم نے انہیں بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ،جب اس سے بھی کام نہ بنا توانگریز نے مرزا قادیانی اور آل قارون احمد رضاخان بریلوی کی صورت میں باقاعدہ جماعتی اور مذہبی رنگ دیکر اس میدان کو خالی کرانا چاہا ۔بڑے بھائی نے جہاد کے حرام ہونے کا فتوی دیا تو چھوٹے بھائی نے انگریز کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فر و گزاشت نہ کیامگر اس سب کے باجود سید بادشاہ کے قافلے نے انگریز کا وہ حشر کیا کہ ایک انگریز ڈبلیو ڈبلیوہنٹر کو اپنی حکومت کو یہ لکھنا پڑا کہ جب تک سید صاحب کے نظریات کے حامل ان سرحدی لوگوں کو خاتمہ نہیں کیا جاتا انگریز ہندوستان پر کبھی بھی اپنا مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکتا (کتاب:ہمارے ہندوستانی مسلمان)مگر بے حیائی کی انتہاء دیکھیں کہ رضا خان ساری زندگی بریلی کے ایک حجرے میں بیٹھا رہا خود تو کبھی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے میدان عمل میں ایک پتھر کھانے کی توفیق نہ ہوئی مگر اسلام کے ان سرفروشوں کو جنہوں نے اپنا گھر ،بال بچہ، گھر کا چین و آرام اللہ کے دین پر قربان کردیا جن کے جسم اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے چھلنی ہوگئے تھے انگریز کا ایجنٹ ،گستاخ اور اسلام کا دشمن بولتے ہوئے ذرا حیاء نہ آتی تف ہے ایسی دجالی مجددیت پر۔
یہی حال اس دین فروش آدمی کی دین فروش ذریت کا ہے جو خود تو آستانوں اور درگاہوں کے حلوے و نیازیں کھاکر سارا دن ساری رات قبروں پر پڑے عیاشیاں کررہے ہوتے ہیں مگر دنیا بھر میں کافروں کے خلاف برسرپیکار دین کے مجاہد ان کے ہاں کافروں کے ایجنٹ اور وہابی تکفیری ہیں۔ ہمیں سمجھاؤ خدارا !یہ کیسی ایجنٹی ہے کہ رقم لیکر خود کو موت کے میدان میں دھکیل دیا جاتا ہے؟ اگر ان مجاہدین نے امریکا سے پیسے لینے ہوتے تو پیسے لیکر فضل کریم کی طرح فیصل آباد میں عیاشی کرتے یا جہاد کے میدانوں میں تکالیف اٹھاتے؟ ہمیں آخر یہ منطق سمجھاؤ کہ ایک شخص دین بیچ رہا ہے پیسے لے رہا ہے گھر بنانے کیلئے دنیا میں عیاشی کیلئے مگر وہ یہ پیسے لیکر درگاہیں بناکر عیاشی کرنے کے بجائے انہی کافروں کے خلاف میدان میں جاکر ان کو مارتا ہے اور مرجاتا ہے ؟آخر یہ کیا ڈرامہ بازی ہے ؟
قارئین کرام! قریباًعرصہ دو سال قبل جب شام میں نصیری رافضی بشار الاسد کے ظالمانہ و کافرانہ حکومت کے خلاف وہاں کی عوام نے علم بغاوت بلند کیا اور اسلامی حکوت کے قیام کا اعلان کردیا تو کافروں اور ان کے ایجنٹوں کی نیندیں حرام ہوگئیں اب جب کہ یہ تحریک کامیابی کی سرحدوں کے قریب پہنچ گئی تو اچانک مولوی ابو داؤد رضاخانی کے شرانگیز رسالے ’’رضائے شیطان‘‘ (ہاں ہاں جس رسالے میں شرک و بدعت کی تعلیم دی جائے علماء اہلسنت پر بکواس کی جائے ،مجاہدین اسلام کے خلاف شر انگیز مضامین چھاپے جائیں وہ رضائے شیطان تو ہوسکتا ہے رضائے مصطفی ﷺ نہیں)کے باسی کڑے میں ابال آیا اور جون
۲۰۱۳ کے شمارے کے پہلے صفحے پر بریلی کے ایک انگریزی نمک حلال مولوی کے اندر کی سیاہی کو قلم کی سیاہی بناکر رضائے شیطان کے صفحات اپنے دل کی طرح کالے کرنا شروع کردیئے۔جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے ۔رافضی مضمون نگار نے عنوان دیا :مسلم حکمران و لیڈران اور باغیرت عوام کیلئے ۔۔حالانکہ اس کا عنوان یہ ہونا چاہئے تھا کہ :
ضمیر فروش سجادہ نشینوں اور بے غیرت بریلوی عوام و قائدین کیلئے
عنوان میں مسلم حکمران کا لفظ بھی عجیب ہے اس لئے کہ آج سعودی عرب کے حکمران تو تمہارے نزدیک وہابی نجدی کافر ہیں اور سارا عرب اور مسلم حکمران ان کو خادمین حرمین شریفین اور مسلمان مانتی ہے اور تمہارے فتوے سے یہ سب بھی کافر تو جب تمہارے فتووں کی رو سے دنیا میں سرے سے کوئی مسلمان ہے ہی نہیں تو مسلم حکمران کا کیا مطلب؟پھر بے شرمی ،ڈھیٹ پن اور ابن الوقتی دیکھئے کہ مضمون نگار لکھتا ہے کہ :
’’خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے۔۔۔۔
کوئی اس بے شرم رافضی سے پوچھے کہ یہ خلافت عثمانیہ کیا ہوتا ہے ؟تیرا گرو رضاخان تو ’’دوام العیش ‘‘ لکھ کر یہ چیختا کہ ترکوں کی خلافت خلافت نہیں اس خلافت کی حمایت میں چلنے والی تحریکِ خلافت کی ساری زندگی مخالفت کرتا رہا اور تو آج اس کو خلافت عثمانیہ کہتا ہے کچھ تو ابا جان کے نمک کا حق ادا کر۔آگے یہ بد بخت لکھتا ہے کہ :
’’اب یہی کام بڑے پیمانے پر خلیج و عرب میں امریکا و اسرائیل کی حمایت سے ہورہا ہے جہاں ایک تکفیری فرقہ وجود میں آگیا ہے جو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے ‘‘
مضمون نگار رافضی کو کچھ تو حیاء کرنی چاہئے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ اپنے اس سیاہ جھوٹ کا کوئی مستند ثبوت دے ۔دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گھر کا گند تو دیکھتے کہ تمہارے اکابر نے علمائے دیوبند کو کافرکہا،انگریز سے جہاد کو حرام لکھا،آئمہ حرمین کو کافرکہا،علمائے اہلحدیث کو کافر کہا،امام بخاری کو گستاخ کہا،شاہ ولی اللہ کے کفر پر اجماع کا قول نقل کیا، قائد اعظم کو کافر کہا علامہ اقبال کو کافر کہا ، مسلم لیگ پر کفر کے فتوے لگائے ،تحریک بالاکوٹ والوں کو کافر کہا،مولانا عبد الباری پر
۲۰۰ سے زائد کفر کے گولے برسائے ،علماء بدایوں کو ۶۰۰ سے زائدوجوہ سے کافر لکھا ،ہندوستان میں موجود اپنے سوا ہر ایک جماعت و تنظیم کا نام لے لے کر ان کو کافر کہا حتی کہ اختر رضاخان کہتا ہے کہ اس وقت دنیا میں صرف بریلوی ہی مسلمان ہیں (کتاب:سنو چپ رہو) العیاذ باللہ تو دوسروں کو تکفیری کا طعنہ دیتے ہوئے ذرا حیاء نہ آئی ؟ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ دنیا کہ کسی ایسے مسلک کسی ایسے فرد کا نام بتاؤ جو قارون کی نسل رضاخان کو نہ مانتا ہو اور پھر بھی تمہارے نزدیک مسلمان ہو؟ظالم تونے کیا سمجھ لیا تھا کہ تیری ان بکواسات کا محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں؟میں زیادہ دور نہیں جاتا اسی رضائے شیطان کے جون کے شمارے سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
ص
۸ پر لکھا حاجی فضل کریم ،حالانکہ آپ کے مذہب میں حج حرام ہے تو حاجی کہاں سے ہوگیا ؟ کیا ۱۲ ربیع الاول کو خانہ کعبہ کے ماڈلز کے گرد گھومنے کو حج کے قائم مقام تو نہیں کردیا؟ اسی صفحہ پر غازی ممتاز حسین لکھا حالانکہ اس نام نہاد غازی کو طاہرالقادری اور اس کی جماعت کافر کہتی ہے ،ص۱۵ پر لکھا روح المعانی میں مفسر قرآن علامہ آلوسی حالانکہ اسی مفسر قرآن کو آل قارون خان صاحب آزادی زمانہ کی ہوا کھائے ہوئے لکھتا ہے ،ص۱۳ پر لکھا کہ بدعقیدہ کا رد مومن کا ایمان ہے اور ان سے میل رکھنے والا بے ایمان ،دیوبندی آپ کے نزدیک بد عقیدہ ہیں معاذ اللہ حالانکہ انہیں دیوبندیوں کے ساتھ شاہ نورانی رضاخانی اور صاحبزادہ ابو الخیر اور آپ کے دیگر اکابرین نے مل کر دینی تحریکات چلائیں کہو یہ سب بے ایمان تھے ، ص ۲۳ پر غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی لکھا حالانکہ اس بریلوی ریڈی میڈ غزالی کو مولوی غلام مہر علی سمیت دیگر کئی بریلوی علماء نے کافر اور گستاخ لکھا،ص ۲۷ پر علمبردار توحید کے الفاظ ہیں حالانکہ آپ کے ہاں توحید کا لفظ بدعت وہابیوں کی ایجاد اور حضور ﷺ کی گستاخی کیلئے بنایا گیا لفظ ہے معاذ اللہ۔ص:۲۵ پر مولانا عبد الستار خان نیاز ی(رحمۃ اللہ علیہم) لکھا حالانکہ یہ نیازی شیعہ ساجد نقوی اور دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھتا تھا (ماہنامہ کنز الایمان۔ص:اگست ۱۹۹۴)اور رضائے شیطان کے مدیر ابو داؤد نے اپنی کتاب خطرہ کی گھنٹی میں اسے کفر لکھا۔صرف ایک شمارے پر تمہارے فتووں کا یہ حال ہے تو پورے لٹریچر کا کیا حال ہوگا؟ اس کی تفصیل کیلئے ’’رضاخانیوں کی کفر سازیاں ‘‘ اور ’’دست و گریبان‘‘ کتابوں کا مطالعہ کریں ۔دوسروں کو تکفیری کہنے والے یہ مت بھولیں کہ ان کے جاہلوں کے پیشوا رضاخان کے بارے میں عوامی تاثر یہی ہے کہ انہوں نے بریلی میں کفر ساز مشین گن نصب کر رکھی ہے ۔(حوالہ ہمارے ذمہ)۔پھر بالفرض ان مجاہدین نے اپنے مخالفین کو کافر یا مرتد کہہ دیا ہو تو اس میں اچھنبے والی کیا بات ہے ؟ کیونکہ ان سرفروشوں کے مخالفین رافضی نصیری مرتد ین ہیں جن کے بارے میں تمہارے آلہ حضرت کا فتوی ہے کہ :
’’بالجملہ ان رافضیوں تبرائیونکے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ علی العلوم کفار مرتدین ہیں انکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے انکے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہرگز نہ ہوگا محض زنا ہوگا اولاد ولد الزناہوگی باپ کا ترکہ نہ پائیگی اگر چہ اولاد بھی سنی ہی ہو شرعا ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کیلئے مہر نہیں رافضی اپنے کسی قریب حتی کے باپ بیٹے ماں بیٹی کا ترکہ بھی نہیں پاسکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اصلا کچھ حق نہیں ،انکے مرد عالم جاہل کسی سے میل جول سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام جو انکے ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہوکر بھی انہیں مسلمان جانے یاان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام آئمہ دین خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو انکے کیلئے مذکور ہوئے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوی کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں‘‘۔
(رد الرفضہ :ص
۱۶۔انجمن حزب الاحناف لاہور)
امید کرتا ہوں کہ خلاف توقع کچھ حیاء آگئی ہوگی۔پھرامریکا و اسرائیل کی حمایت سے کیا مراد ہے حالانکہ الجزیرہ ٹی وی نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا ویڈیو بیان نشر کیا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ امریکا اور صدر اوباما کبھی شامی باغیوں (بقول ان کے ) کی حمایت نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اسلامی خلافت کے قیام کے علمبردار ہیں اور اوباما انتظامیہ ایسی کسی تحریک کو کبھی سپورٹ نہیں کرے گی ۔شامی مجاہدین نے اس الزام کے بعد باقاعدہ وہ تصاویر شائع کی ہیں جس میں یہ مجاہدین خود اسلحہ تیار کررہے ہیں کہ یہ محض الزام ہے کہ ہمیں اسلحہ امریکا فراہم کررہا ہے ۔اگر اس تحریک کی حمایت اسرائیل و امریکا کررہا ہے تو ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس فیس بک جس کا لنک تم نے بھی دیا سے شامی مجاہدین کی حمایت میں بننے والے سینکڑوں پیجز کو کیوں ڈیلیٹ کردیا گیا؟ صرف ایک مثال دیتا ہوں
The City of Ameer mavia
اس سے ہم بھی استفادہ کرتے اور اس کو دس ہزار سے زائدلوگوں نے لائیک کیا مگر دیگر پیجز کی طرح اسے بھی ڈیلیٹ کردیا اگر یہ سب امریکا و اسرائیل کی حمایت سے ہورہاہے تو سوشل میڈیا پر ان کی حمایتیوں کی زبان بندی کیوں کی جارہی ہے؟دوسروں پر امریکی ایجنٹی کا الزام لگانے والے یہ کیوں بھول گئے کہ ابو داؤد کے محدث اعظم پاکستان کا جگر گوشہ فضل کریم ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی امریکا کے
۳۶ ہزار ڈالر کھاکر بد ہضمی کی وجہ سے مرگیا ،تمہیں شرم اس وقت کیوں نہیں آئی اور امریکی حمایت کا خیال اس وقت کیوں نہیں آیا جب ناول نگار ارشد القادری کی بدنام زمانہ کتاب زلزلہ کی داد و تحسین پر امریکا سے ایک خط آیا اور اس ناول نگار نے اسے اپنی کتاب میں اس آب و تاب کے ساتھ شائع کیا گویا امریکا سرکار کا خط نہ ہو کوئی صحیفہ آسمانی ہو،تمہیں اس وقت شرم کیوں نہ آئی جب افغانستان کے طالبان کو امریکا کی حمایت حاصل تھی اور شاہ نورانی ان طالبان کو اپنے طالبان کہتا اور ان کیلئے چندہ جمع کرنے کی حمایت کرتا،آج تم تحریک طالبان کے مخالف ہو اور اس مخالفت کو امریکا کی مکمل سپورٹ حاصل ہے تو کہو کہ تم بھی امریکی حمایت یافتہ اس کی ٹوڈی جماعت اور اسرائیلی گماشتے ہو۔فضل حق سے فضل کریم تک انگریزی جوتوں کے تلوے تم بنو اور الزام تراشیاں دوسروں پر؟
اس رافضی مضمون نگار کی سیاہ بختی کا اندازہ اس سے لگالیں کہ وہ بشار رافضی جو وہاں لاکھوں سنی مسلمان عورتوں ،مردوں ،بچوں کاقاتل ہے ،جس کی فوجوں نے سنی مسلمانوں کی گردنیں مشینی آروں سے کاٹیں ،جو وہاں کے نوجوانوں کو اپنی جوتیاں چٹواتے ہیں
۲۹ جولائی کو اس کے صرف ایک میزائل حملے میں ۵۰ افراد شہید ہوئے جس میں خواتین سمیت ۱۹ بچے بھی شامل ہیں ،جس کی فوج وہاں کے سنی مسلمانوں کو گرفتار کرکے ان کے سامنے بشار کی تصویر رکھ کر کہتی ہے کہ اس کو رب کہو ورنہ کھال اتار دیں گے اس ظالم کو تو پورے مضمون میں صرف ایک دفعہ ’’ضدی صدر بشار‘‘لکھا اور وہ مجاہدین جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وہاں اسلام کا پرچم بلند کیا،وہاں کی عورتوں مردوں کی عزت و آبرو کی حفاطت کررہے ہیں ،وہاں کے سینکڑوں بھوکوں کو کھانا کھلارہے ہیں صرف ایک واقعہ سناتا ہوں جب بشار کی فوج ایک گاڑی میں موجود دو بچوں پر گولیاں برسا رہی تھی تو خالد بن ولیدؓ کے ان عظیم سپوتوں نے اپنی جان پر کھیل کر گولیوں کی بوچھاڑ میں ا ن بچوں کو زندہ بچالیا اور جیسے ہی ایک طرف کیا تو اچانک خود رافضی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر جنت کی طرف راہ سدھار گئے ،ان تمام باتوں کے ویڈیو ثبوت آپ کو اپنے اسی محبوب فیس بک پر مل جائیں گے ایسے عظیم سرفروشوں کیلئے اس بد بخت نے جو الفاظ استعمال کئے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:
شامی باغیوں ،جہادی گروپ کا بدبختانہ فرمان،بدبخت مولوی،ملعون،بدبخت مجرم،ا یسا مولوی شیطان ،مومن مسلمان بھی نہیں،باغی تنظیم فری سیرین،ایسی دہشت گرد تنظیم، شامی باغیوں،باغی دہشت گرد ہیں،باغی تنظیم فری سیرین آرمی دہشت گرد تنظیموں ۔
اس بدبخت کو ان مجاہدین سے یہ بغض اس لئے ہے کہ وہاں ہر گولی ہر کامیابی پر تکبیر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے جو اس کے شرکیہ مذہب میں سب سے بڑا جرم ہے ،اس کو ان مجاہدین سے یہ بغض اس لئے کہ یہ مجاہدین ان اسدی مرتد فوجوں سے جو بشار کو اپنا رب مانتی ہے گرفتارہونے پر اللہ اکبر کے نعرے لگواتے ہیں ،اسے یہ بغض اس لئے کہ جب یہ مجاہدین زخمی ہوکر ہسپتال آتے ہیں تو بازو کٹا ہوا ہے مگر اس وقت بھی سورہ مریم کی تلاوت جاری ہے ، بشار کی فوج زندہ ان مجاہدین کو آگ لگا رہی ہے ان کو زندہ دفن کررہی ہے مگر اس وقت بھی اللہ کے ان سپاہیوں کی زبان پر یہ کلمہ جاری ہے کہ یا اللہ میرا اور کوئی قصور نہیں سوائے اس کہ میں تجھے اپنا رب اور محمد ﷺ کو اپنا نبی مانتا ہوں یا اللہ سب بڑائیاں اور عظمتیں تیرے لئے ہیں ،ان رضاخانیوں کو اس لئے ہیضہ لگ گیا ہے کہ اس وقت یہ خدا کو کیوں یاد کررہے ہیں اس وقت تو گیارہویں والی سرکار یاد آنی چاہئے ،اور بشار سے اس رافضی کو یہ محبت اس لئے کہ وہ ان کا رافضی بڑا بھائی ہے ، جس کی فوجوں کا نعرہ ربنا بشار ہے ۔مجاہدین کی مخالفت میں یہ ضمیر فروش مولوی اس قدر بدحواس ہوچکا ہے کہ رافضیوں کو مسلمان لکھتے ہوئے بھی حیاء نہ آئی اور لکھتا ہے کہ:
’’حکومت کے حامی مسلمان‘‘۔۔۔
حالانکہ اس بشار کی رافضی حکومت اور رافضی حزب اللہ کا حامی بھی خود احمد رضاخان کے فتوے سے کافر و مرتد ہے ۔رضاخانیوں کی ضمیرفروشی کا اندازہ اس سے لگالیں کہ لبنان میں بیٹھی ہوئی حسن نصر اللہ کی حزب اللات تو اپنے ہم مسلک بشار کی حمایت کیلئے شام میں لڑنے پہنچ گئی مگر یہ بے غیرت سنی کہلوانے کے باوجود ان مجاہدین کو بدنا م کررہے ہیں۔ بد بختو! اگر ان کی حمایت نہیں کرسکتے تو کم سے کم منہ تو بند رکھ سکتے ہو ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ مضمون نگار خود رافضی ہے اس کی بے حیائی دیکھیں کہ اپنے رافضی بھائی کو تو صرف ’’ضدی ‘‘ لکھتا ہے کہ مگر اس کے مقابلے میں سنی مسلمانوں کو یہ مغلظات سناتا ہے :
’’لعنت ہے ایسے بے غیرت اور بے حس مسلم حکمرانوں اور عالمی شہرت یافتہ مسلم قائدین پر جو‘‘۔۔
اگر یہ بے غیرت ہیں تو تونے کونسے غیرت مندوں والا کام اب تک کیا ؟سلمان تاثیر کو قتل کرنے پر آج ممتاز غازی ہوگیا مگر زیادہ دور مت جاؤ یہ دیوبندی جو صبح شام تمہارے سامنے سینہ تان کر چلتے ہیں جن کے بارے میں تمہارا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے گستاخان رسول ﷺ ہیں معاذ اللہ ان کے بارے میں کبھی غیرت آئی؟خدا کی قسم ہمارا تو اگر کسی کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ یہ سامنے والا بد بخت گستاخ رسول ﷺ ہے تو یا وہ دنیا میں رہے گا یا ہم یقین نہ آئے تو آزما کر دیکھ لو۔مگر تمہارے اس عشق پر ہزار بار تف۔
ان ملونوں نے شیعوں کی تقلید کرتے ہوئے شام کے ایک مجاہد گروب الجیش الحر السوری فری سیرین آرمی پر یہ الزام لگایا کہ اس نے صحابی رسول ﷺ کے جسد اطہر کی بے حرمتی کی ، حالانکہ اس الزام پرجتنی لعنتیں کی جائیں کم ہے ۔اور اس بات کیلئے حوالہ کیا دیا ’’آئی ،آر ،آئی ،بی iribجب ہم نے Googleپر سرچ کیا کہ یہ کیا بلا ہے تو یہ سامنے آیا :
صداو سیمای جمہوری اسلامی ایران
Islamic Republic of Iran Broadcasting
www.irib.ir/English/
Islamic Republic of Iran Broadcasting, or IRIB, formerly called the National Iranian Radio and Television until the Islamic revolution of 1979, is a giant Iranian corporation in control of radio....
واقعی پہنچی خاک وہیں جہاں کا خمیر تھا۔جب شیعہ وہاں خود لڑ رہا ہے تو ایران کی سرکاری شیعہ براڈ کاسٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اور اس کی رپورٹس پر یقین کرتے ہوئے حیاء آنی چاہئے ۔ ایران کو فری سیرین آرمی سے یہ بغض اس لئے ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اسی فری سیرین آرمی کے کمانڈر عبد الرزاق طلاس حفظہ اللہ نے وہاں ایرانی جاسوس پکڑے جن کو ایرانی حکومت نے شامی مجاہدین کے خلاف لڑنے کیلئے شام بھیجا تھا فری سیرین آرمی نے ان گرفتار دہشت گردوں کو ان کے ایرانی پاسپورٹوں سمیت ساری دنیا کے سامنے میڈیا پر دکھادیا ۔ اب ایران نے اس تنظیم کو بدنام کرنے کیلئے یہ مذموم الزام ان پر لگایا اور بریلویوں نے اپنے بھائیوں کا اس مکروہ دھندے میں بھرپور ساتھ دیا۔اس ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ذرا اپنے made in Chinaضیغم اہلسنت کی بھی سن لو:
’’یہ کہاں ضروری ہے کہ اخبارات کی خبر سو فیصد درست ہوتی ہے یہاں بھی رپورٹر یا نامہ نگار یا بیان دینے والے کی مرضی کے خلاف ان سے منسوب کرکے بہت کچھ لکھ دیتے ہیں اور بعد میں تردیدی بیان جاری ہوتے ہیں‘‘۔ (قہر خداوندی۔ص:
۵۱)
اور مزید لکھتا ہے :
’’شہادت بھی ملی تو ڈاڑھی منڈا یڈیٹرکی جو شرعی معیار پر پوری ہی نہیں اترتی اور چٹان وہ چٹان جس میں عامہ تصاویر کے علاوہ نوجوان لڑکیوں اور سودی قرضوں اور بینکوں کے اشتہار شائع ہوتے ہیں ان کے نزدیک چٹان بھی صحیفہ آسمانی ہے ‘‘۔ (برق آسمانی۔ص:
۱۲۸)
تو رضاخانیو! مجاہدین کو بدنام کرنے کے واسطے شہادت ملی بھی تو خمینی اور ملا باقرمجلسی کی متعہ پالیسی پر عمل پیرا بے دین بے حیاء مرتدینِ ایران کے رافضیوں کی۔ باپ کی یہ شہادتیں تم جیسے بیٹوں کیلئے قابل قبول ہوں گی ہم انہیں جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔
قارئین کرام! دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں قریبا ایک ہفتہ نیٹ پر سرچنگ کی مگر سوائے شیعہ کے کسی کے متعلق ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مجاہدین پر یہ الزام کسی اور نے لگایا ہو اس حوالے سے جتنی الزام تراشیاں اور مذموم پروپگینڈا تھا وہ سب شیعہ کے اخبارات یا سائیٹس پر تھا دوسرے نمبرپر جن کا حوالہ آپ کو ملے گا وہ بریلی کے ان گلابی رافضیوں کا ملے گا ۔اب ہمیں معلوم ہوا کہ اس پروپگینڈے کو باقاعدہ ایرانی حکومت ایک سازش کے تحت پھیلارہی ہے جس میں رضاخانی اس کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں خود اس رافضی مضمون نگار نے علماء ہند و ایران کا ذکر کرکے واضح کردیا کہ اس شیطانی سازش کا مرکز ایران سے ہوتا ہوا بریلی ہے ۔مگر الحمد للہ ان دو شر ذمۃ القلیلۃ کے علاوہ پوری دنیا کے کسی مسلمان نے ان مجاہدین پر یہ الزام لگا کر ان کے خلاف احتجاج نہیں کیا اور اجتماعی طور پر امت مسلمہ نے اس الزام کو رد کرکے ان ایرانیوں اور بریلویوں کا منہ کالا کردیا۔پھر یہ بھی عجیب کذب بیانی ہے کہ توہین کردی ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر کونسی توہین کی ہے ؟ اگر محض قبر سے نکالنا توہین ہے تو خود تم نے رضائے شیطان کے جولائی
۲۰۱۳ کے شمارے میں ص ۹ پر ۳ واقعات ایسے لکھے ہیں جن میں قبر کشائی کی گئی اگر آپ کے بتائے ہوئے واقعات میں ان افراد کو نکالنا جن میں سے دو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہما ہیں گستاخی نہیں تو بقول آپ کہ ان مجاہدین کا یہ عمل گستاخی کیوں؟جبکہ مجاہدین جسم کو نکال کر اپنی حفاظت میں لے گئے اورنامعلوم مقام پر دفن کردیا کہ یہاں شیعہ اس مزار کو سجدے کرتے ہیں مرادے مانگتے ہیں (یہ معلومات بھی ہمیں رافضی سائیٹس سے ملی ہیں۔واللہ اعلم) رضاخانیوں نے بھی شیعہ ویب سائیٹس سے جو تصویریں لیکر اپنی فیس بک کا حوالہ دیا اور جو تصویریں شائع کی ہیں اس میں بھی صرف اتنا ہے کہ ایک قبر کھدی ہوئی ہے توہین کے آثار دور دور تک نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ قبر کس کی ہے کیونکہ ان تصاویر میں ایسا کوئی ثبوت نہیں جس کی بناء پر معین طور پر کہا جاسکے کہ یہ قبر کس کی ہے ؟
شام کے مجاہدین پچھلے ایک ماہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر مبارک اور ان کے نام سے موسوم مسجد کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں اگر انہیں گستاخی کرنی ہوتی تو حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار کی توہین کرتے آخر جب شیعہ فوج زمینی راستے سے مکمل ناکام ہوگئی تو شدیدبمباری کرکے حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار،قبر مبارک، اور مسجد کو زمین بوس کردیا مگر رضائے شیطان نے ایک لفظ اس مذموم حرکت کی مذمت میں نہیں کہا صرف اس لئے کہ کہیں ملا باقر مجلسی کی ذریت ناراض نہ ہوجائے اور احمدی نژاد کا فنڈ بند نہ ہوجائے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ روافض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے بدترین دشمن ہیں صحابی رسول ﷺ کے مزار پر بمباری اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قسم کی کاروائیوں میں رافضی نصیری اور حزب اللہ کے دہشت گرد ملوث ہیں۔
اس ملاں باقر رضوی نے (نام کوئی او ر ہے اس کے کرتوتوں کی وجہ سے یہ نام موزوں لگا)ایک الزام یہ بھی لگایا کہ مجاہدین نے ڈاکٹر سعید رمضان کو قتل کیا حالانکہ شامی مجاہدین نے اگلے ہی دن اسدی حکومت کے اس الزام کی تردید کردی اور کہا کہ چونکہ اس مولوی کا تعلق حکومتی حمایتی گروپ سے تھا اس لئے ہمیں بدنام کرنے کیلئے حکومت نے یہ حرکت کی اگر ہمیں عام لوگوں کو مارنا ہوتا تو سڑکوں پر شامی عوام کی جان بچانے کے بجائے اسدی فوج کی طرح ان پر گولیاں چلاتے،پھر اس مولوی کی داڑھی طاہر القادری کی داڑھی سے بھی زیادہ چھوٹی تھی احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے تو یہ لعنتی ،گستاخ اور واجب القتل تھا،پھر تھا بھی حکومت کا حمایت یافتہ یعنی احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے مرتد، ایسے آدمی کی حمایت کرکے اور اسے شہید لکھ کر یہ سارے رضاخانی خود اپنے ہی رضاخان کے فتوے کی رو سے مرتد ہوگئے ہیں اور اگر توبہ اور تجدید ایمان نہ کیا تو آنے والی ذریت بھی حرامی کہلائے گی۔ اور اس مولوی کے مرنے پر تو باقر رضوی کو بڑی غیرت آئی مگر رضاخانیوں کی غیرت اس وقت کہاں مرگئی تھی جب اسی سوشل میڈیا پر اسدی نصیری فوجیوں کی ایک ویڈیو شائع کی گئی جس میں وہ شام کے دو سنی علمائے دین کی داڑھیاں پکڑ کر ہاتھوں سے نوچ رہے ہیں۔
پھر اس بدبخت نے کسی یاسر عجلونی نامی آدمی کی آڑ میں مجاہدین پر خوب دل کی بھڑاس نکالی ۔ہم نے اس آدمی کا نام پہلی بار سنا اس لئے جب معلومات کی تو ایک عیسائی ویب سائٹ سے اس کا فتوی مل گیا اسی سے اندازہ لگالیں کہ یہ کاروائی بھی کس کی ہوگی؟ اول تو یاسر عجلونی کسی جہادی تنظیم کا ذمہ دار نہیں نہ اس کے اس فتوے کی حمایت اب تک کسی جہادی تنظیم نے کی ،یہ اس کا انفرادی فتوی ہے۔ایک غیر مقلد آدمی ہے ، غیر جانبدار ذرائع سے اس فتوے کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی یہ ساری غلاظت اس وقت بکو جب فتوی تو پہلے ثابت کرو پھر ہمیں جو فتوی ملا اس میں صرف اس نے اتنا لکھا کہ مجاہدین کے ہاتھوں رافضی مرتدین کی جو عورتیں ہاتھ آرہی ہیں انہیں آزاد چھوڑنے کے بجائے وہ انہیں باندیاں بنا سکتے ہیں اس طرح ان کی عزت محفوظ رہے گی اس میں کہیں بھی اس نے یہ نہیں کہا کہ عورتوں کی عصمت دری کرو مگر اس بد بخت مولوی نے اسلام کے غلام اور لونڈیاں بنانے کے نظام کو عصمت دری کہہ کر کفر کا ارتکاب کیا ہے اور مستشرقین کے اس الزام کی تائید کی کہ اسلام میں یہ نظام بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور مسلمانوں نے لونڈیاں بنانے کے نام پر عورتوں کی عصمت دری کی ۔یاسر عجلونی غیر مقلد کے اس غیر مصدقہ فتوے کو آڑ بناکر مجاہدین پر بکواس کرنے کے بجائے پہلے احمد رضاکا نظریہ پڑھو:
احمد رضا کی بیٹیاں سیّد کی باندیاں
’’ایک سید صاحب جو کچھ دن پہلے تشریف لائے تھے اور اس مکان کو مردانہ پایا تھا ، پھر تشریف لائے اور اس خیال سے کہ مکان مردانہ ہے بے تکلف اندر چلے گئے ۔ جب نصف آنگن میں پہنچے تو مستورات کی نظر پڑی جو زنانہ مکان میں خانہ داری کے کاموں میں مشغول تھیں ، انہوں نے جب سید صاحب کو دیکھا تو گھبرا کر اِدھر اُدھر پردہ میں ہوگئیں ۔ ان کے جانے کی آہٹ سے جناب سید صاحب کو علم ہوا کہ یہ مکان زنانہ ہوگیا ہے ، مجھ سے سخت غلطی ہوئی جو میں چَلا آیا۔اور ندامت کے مارے سر جھکائے واپس ہونے لگے کہ اعلیٰ حضرت دکھن طرف کے سائبان سے فوراً تشریف لائے اور جناب سید صاحب کو لے کر اس جگہ لے گئے جہاں تشریف رکھا کرتے اور تصنیف و تالیف میں مشغول / مصروف رہتے ۔ اور سید صاحب کو بٹھا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ جس میں سید صاحب کی پریشانی اور ندامت دور ہو پہلے تو سید صاحب خفت کے مارے خاموش رہے ۔ پھر معذرت کی اور اپنی لاعلمی ظاہر کی کہ مجھے زنانہ مکان ہونے کا کوئی علم نہ تھا۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ حضرت یہ سب تو آپ کی باندیا ں ہیں آپ آقا زادے ہیں معذرت کی کیا حاجت ہے؟ میں خود سمجھتا ہوں ۔ حضرت اطمینان سے تشریف رکھیں ۔
( حیات اعلیٰ حضرت ص
۲۳۲ المیزان ص ۳۷۰ ، انوارِ رضا ص ۴۱۴)
اگر یاسر عجلونی نے ایسا کوئی فتوی دیا ہے تو رضاخان کی ان تعلیمات کو پڑھ کر دیا ہوگا۔
بے غیرتو! تمہارے مجددنے اپنی گھر کی عورتوں کو غیر مردوں کی باندیاں کہا کیا تمہارے مذہب میں قوم کی بہو بیٹیاں سیدوں کی باندیاں ہیں؟ جب دل کرے گھر میں گھس کر اٹھا لیجائے اور منہ کالا کرکے واپس دیجائے کبھی اس پر لب کشائی کا خیال آیا ؟اب کر اسی طرح بکواس جو مجاہدین پر کی، کہہ کہ اس نام نہاد مجدد نے مسلمانوں کا سر شرم سے جھکا دیا احمد رضاخان ایک فکری غلام اور ضمیر فروش مولوی ہے لکھ اسی طرح کہ اس دیوث اور شیطانی مولوی سے ہماری پناہ، کھودو اس کی قبر اور بشرطیکہ جسم و ہڈیاں سلامت بچی ہوں لگاؤ اس پر کوڑے یا مارو اس کی قبر پر جوتے ۔
قبر فروش مولویو! کان کھول کر سن لو اگر ہم ان مجاہدین کی مدد کیلئے میدان جہاد میں نہیں جاسکتے تو یہاں بیٹھے کسی ایرانی گماشتے کو ان پر بکواس کرنے کی بھی اجازت نہیں دیں گے ہم ایسی گندی زبان کو گدی سے کھینچنا جانتے ہیں ۔آخر میں اس ملاایرانی نے اپنے اصل مکروہ چہرے سے نقاب کشائی کرتے ہوئے لکھا :
’’شام میں جنگ کوئی اسلامی جہاد نہیں بلکہ اقتدار کی جنگ ہے ‘‘۔ص
۳۹
بالکل وہاں اسلامی جہاد آپ کے مذہب کے مطابق اس لئے نہیں کہ وہاں نعرہ غوثیہ، نعرہ حیدری کی جگہ نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ،وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ وہاں وہ لوگ گولیوں کی بارش میں بھی پیر گھوڑے شاہ کے عرس کے چندوں کی اپیل کے بجائے اذان کی صدائیں بلند کرتے ہیں ،بالکل وہاں تیرے مطابق اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ وہاں کے یہ مجاہدین عر س و گیارہویں کے نام پر مریدوں اور سادہ لوح عوام کی جیبیں ٹٹولنے کے بجائے اپنے حصہ کی آدھی روٹی بھی اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیتے ہیں ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ یہ مجاہد آپ کی طرح قبروں پر دھمال ڈالنے کے بجائے میدان جہاد میں شو ق شہادت میں دیوانہ وار پھرتے ہیں ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ وہ پراٹھوں کے ، گیارہویں کے دودھ کے فضائل کے بجائے جنت کے میووں پر یقین رکھتے ہیں جو شہادت کے بعد ان کی خوراک ہوگی ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ انہوں نے تمہارے آقا رافضی اور انگریز کو للکارا ہے ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ مرتے وقت ان کی زبان پر یاغوث المدد کی جگہ لا الہ الا اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ ان غیرت مندوں نے پیر ٹلے شاہ ،کاواں والی سرکار ،پیر گھوڑے شاہ ،پیر کتے شاہ ،پیر ننگے شاہ کے قدم چاٹنے اور چومنے کے بجائے مومن کے زیور یعنی ہتھیاروں کوچوم کر اپنے سینوں کی زینت بنایا ، بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ انہوں نے وصایا اعلحضرت میں موجود درجن بھرکھانوں کی فہرست کی بلٹی تمہارے چربی چڑھی ہوئی توندوں کی طرف کرنے کے بجائے جو روکھی سوکھی اپنے پاس تھی اپنی غریب بھوکی عوام کے سامنے رکھ دی کہ جو ہم کھائیں گے وہ تم کھاؤ،بالکل وہاں اسلامی جہاد اس لئے نہیں کہ انہوں نے تمہارے اکابرکی طرح ایسٹ اینڈیا کمپنی کی تنخواہ لینے کے بجائے اللہ کی رضا کیلئے اپنی جان ،مال ،وقت اللہ کی راہ میں وقف کردیا۔
ہاں ہاں کیونکہ تیرا اسلامی جہاد تو یہ ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ قورمے بریانی کی پلیٹوں کو منہ میں ٹھونس کر شہید کیا جائے ،کس طرح حلوے کی رکابیوں کو تھیلیوں اور جیبوں میں بھر کر قیدی بنالیا جائے ،تیرا جہاد تو یہ ہے کہ کس طرح کسی قبر پر لڑ جھگڑ کر قبضہ کرکے اس پر عالیشان قلعہ بنواکر ساری زندگی اس کے نذرانوں پرعیاشی کی جائے ،تیرا جہاد تو یہ ہے کہ کس طرح سید بن کر قوم کی بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر ان کی عزت کے ساتھ کھیلا جائے ،تیرا جہاد تو یہ ہے کہ کس طرح تیجہ چالیسواں ،عرس ، میلاد کے نام پر عوام سے جزیہ و خراج وصول کیا جائے ۔
یقیناًوہ ایسے نام نہاد اسلامی جہاد سے ہزار بار اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔میں اپنے سنی بھائیوں سے بھی گزارش کروں گا کہ خدارا !اب تو ان گندم نما جوفروش انگریزی ٹوڈیوں کو پہچانو یہ وہ بد بخت فرقہ ہے جس نے ہر دور میں اسلام کا نام لیکر اسلام کی جڑیں کھوکلی کی ہیں جنہوں نے قبروں پر بیٹھ کر ساری زندگی مجاہدین کو بدنام کرنے کیلئے گوز مارے۔آخر کب تک تم ان آستین کے سانپوں کو یونہی کھلی چھوٹ دئے رکھو گے۔آخر میں ہم رضاخانیوں سے پوچھنا چاہتے ہیں:
(
۱) کیا آپ کے ہاں اس وقت دنیا میں کہیں کسی مقام پر جہاد ہو بھی رہا ہے یا ہر طرف بقول آپ کہ تکفیری وہابی فتنہ فساد میں ملوث ہیں؟
(
۲) اگر ہاں تو اس جہاد کیلئے اب تک آپ کیا خدمات سرانجام دے چکے ہیں؟
(
۳) پچھلے دس سالوں میں مختلف جہادی میدانوں میں اپنے شہید ہونے والے نامور کمانڈروں یا مجاہدین کے نام بتاؤ۔
(
۴) کیا آپ نے کبھی جہاد کے لئے چندہ جمع کیا؟اگر نہیں تو کیوں؟تیجہ ،عرس میلاد گیارہویں کیلئے چندہ جمع ہوسکتا ہے تو اس عظیم مقصد کیلئے کیوں نہیں؟
(
۵) پچھلے دس سالوں میں اپنے کسی ایک سیمینار کسی ایک جلسے کا بتائیں جو خاص جہاد کے فضائل یا جہاد کی اہمیت کیلئے منعقد کیا گیا ہو۔
(
۶) آپ کے لٹریچر میں پراٹھوں کی فضیلت ،گیارہویں کے ثبوت ، دودھ کی فضیلت حلوے کی فضیلت پر مواد مل جاتا ہے کسی ایک کتاب یا رسالے کا نام بتائیں جو خاص فضائل جہاد پر ہو۔
اس موضوع سے متعلق سوال اور بھی ہیں فی الحال ان چھ کے جواب عنایت فرمائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔